گنے کی قیمت پر شوگر مل مالکان اور کاشتکاروں کے درمیان تنازع

چہرے پر کمزوری اور تکلیف کے آثار، ہاتھوں اور سینے پر جھلسنے کے بعد گہرے زخم لیے مجید قمبرانی ہسپتال سے چھٹی ملنے کے بعد اپنی زمین پر پہنچے ہیں۔ وہی زمین جہاں اٹھارہ ماہ کی محنت کے بعد تیار ہونے والی گنے کی فصل، کٹ تو گئی ہے لیکن زمین پر ہی پڑی سوکھ رہی ہے۔

مجید قمبرانی میر پور خاص سندھ کے چھوٹے کاشتکار ہیں، یہ سوچ کر کہ شوگر ملیں چلیں گی اور وہ اپنا گنا بیچیں انھوں نے اپنی فصل کٹوائی تھی تاکہ رقم ملنے پر اپنا ادھار چکائیں اور بیٹی کی شادی کی تاریخ بھی مقرر کریں۔

لیکن سندھ کی بیشتر شوگر ملیں اکتوبر میں چلنے کے بجائے اب سے چند دن قبل چلنا شروع ہوئی ہیں۔

ملک بھر اور خصوصاً سندھ میں کسان، گنے کی مقررہ قیمت نہ ملنے اور شوگر ملیں نہ چلنے پر احتجاج کر رہے تھے۔ مجید بھی ایسے ہی ایک احتجاج میں شریک تھے، جہاں حالات سے دلبرداشتہ ہو کر انھوں نے خود کو آگ لگا کر مارنے کی کوشش کی۔ ان کی زندگی تو بچ گئی لیکن اُن کے جسم کے کچھ حصے جھلس گیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مجید قمبرانی نے بتایا کہ ‘بس جذبات میں، ٹینشن میں، پریشان تھا، مجبور تھا میں نے سوچا اس سے بہتر ہے مر جاؤں، جان چھٹ جائے گی۔ میرا بازو ایسے جل رہا تھا جیسے لکڑی کو آگ لگی ہو۔’

مجید قمبرانی کہتے ہیں کہ ’ہم اپنے بچوں سے زیادہ فصل کا خیال کرتے ہیں۔ اگر ملیں وقت پر چلیں تو ہمیں بھی کچھ رقم مل جائے۔ کچھ بھلا ہو جائے۔’

اٹھارہویں ترمیم کے بعد زراعت کا محکمہ صوبائی حکومت کو ملنے کے بعد سے گندم اور گنے سمیت اجناس کی امدادی یا کم سے کم قیمت کا اعلان کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

قانون کے تحت سندھ کی شوگر ملوں میں گنے کی کرشنگ کا آغاز 15 اکتوبر سے شروع ہونا اور کرشنگ کے آغاز سے ایک ماہ قبل امدادی قیمت کا اعلان کرنا لازم ہے لیکن کسانوں کی جانب سے احتجاج کے بعد سندھ حکومت نے دسمبر میں گنے کی امدادی قیمت 182 روپے فی من مقرر کی۔

سندھ میں سات لاکھ ایکٹر زمین پر کھڑی گنے کی فصل تو پک کر تیار ہو گئی لیکن دوسری جانب شوگر ملیں گنا خریدنے کو تیار نہیں ہیں۔

کسانوں کے احتجاج کے بعد سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما آصف زرداری نے شوگر ملیں فوری کھلوانے کا اعلان کیا لیکن شوگر ملیں نہ چلنے سے کاشتکاروں کو کافی نقصان ہوا ہے۔

کسانوں کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے والی تنظیم فارمرز آرگنائیزیشن کونسل کے سندھ کے صدر جاوید جونیجو کہتے ہیں کہ یہ پہلی مرتبہ ہے جب سندھ میں شوگر ملوں نے جنوری میں کرشنگ شروع کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’سندھ میں 29 میں سے 19 شوگر ملیں ایک بڑے گروپ کی ہیں، اس لیے اُن کی اجارہ داری ہے۔’

جاوید جونجیو کہتے ہیں کہ شوگر ملیں کاشتکاروں کو سرکاری نرخ 182 روپے فی من بھی نہیں دے رہی ہیں اور دیر سے ملیں چلنے سے کاشتکاروں کو نقصان ہو رہا ہے۔

ادھر مجید قمبرانی بھی اپنے گنے کا وزن سوکھ کر آدھا رہ جانے پر بہت پریشان ہیں کیونکہ وزن کم ہونے سے اس کی قیمت بھی کم ملے گی۔

انھوں نے بتایا کہ ’دو سے تین لاکھ روپے خرچ آتا ہے، بیج ڈالتے ہیں کھاد لیتے ہیں ادھار پر، پیسے نہیں ملیں گے تو مقروض ہو جاؤں گا۔’

پنجاب حکومت نے گنے کی فی من امدادی قیمت 180 روپے مقرر کی تھی، جس کے بعد سندھ حکومت نے گنے کی امدادی قیمیت 182 روپے فی من مقرر کی۔ دوسری جانب شوگر ملز مالکان کا کہنا ہے کہ یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔

سندھ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ امدادی قیمت کے خلاف شوگر ملز سمیت دیگر فریقین نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

جاوید جونیجو کہتے ہیں کہ سندھ میں گنے کے کاشتکاروں کے مسائل گذشتہ آٹھ سال سے بڑھ رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’آٹھ سال پہلے جب چینی چالیس روپے فی کلو تھی تو یہ ہم سے ڈھائی سو روپے فی من گنا خریدتے تھے اب چینی پچاس روپے سے اوپر ہے اور یہ اب ایک سو بیاسی روپے فی من بھی دینا نہیں چاہتے۔ یہ جان بوجھ کر ہمارے ساتھ زیادتی کرتے ہیں۔’

کسانوں کو گنے کی فی من قیمت کا معاملہ تو اب عدالت میں زیر سماعت ہے لیکن کاشتکاروں کا الزام ہے کہ شوگر ملز مالکان اور بااثر حکومتی افراد کے روابط کے سبب کسانوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔

مجید قمبرانی کہتے ہیں کہ ’حکومت کو چاہیے ہمارے جیسے غریب کسانوں کا خیال کرے، کیا ہے ہمارے پاس، کچھ بھی نہیں ہے۔’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *