پشاور میں جرگے کے بعد پی ٹی ایم نے رزمک کا جلسہ ملتوی کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چند روز پہلے حکومتی جرگے اور پی ٹی ایم کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے تھے اور اس جرگے میں بیشتر معاملات میں پیش رفت ہوئی تھی

پشتون تحفظ موومنٹ اور حکومت کے حمایت یافتہ ارکان کے جرگے میں دونوں جانب سے پیش رفت ہوئی ہے جس میں پی ٹی ایم نے رزمک کا جلسہ ملتوی کر دیا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے جرگے نے پی ٹی ایم کے تمام گرفتار ارکان کی رہائی کا یقین دلایا ہے۔

یہ جرگہ منگل کو پشاور میں منعقد ہوا جس میں حکومت کی جانب سے اجمل وزیر ملک، خان مرجان اور شاہ فرمان شریک تھے جبکہ پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے محسن داوڑ اور دیگر ارکان شامل تھے۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا کہ جرگے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی ایم شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں عید کے تیسرے روز جلسہ منعقد نہیں کرے گی۔ اس جلسے کا اعلان پہلے سے کیا گیا تھا لیکن اب مذاکرات کے بعد یہ جلسہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔

محسن داوڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کے بدلے میں حکومت کی جانب سے پی ٹی ایم کے تمام گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار کارکنوں کی تعداد کا علم نہیں ہے لیکن بڑی تعداد میں گرفتاریاں کی گئی تھیں اور ان میں کچھ اسلام آباد اور کچھ شمالی اور جنوبی وزیرستان ایجنسی کی جیلوں میں قید ہیں۔

محسن داوڑ نے بتایا کہ چند روز پہلے حکومتی جرگے اور پی ٹی ایم کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے تھے اور اس جرگے میں بیشتر معاملات میں پیش رفت ہوئی تھی جس میں آج صرف دو اہم فیصلے کیے گئے ہیں جن پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر کے مطابق چند روز پہلے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں فائرنگ اور علاقے میں کشیدگی کے بعد صورتحال ابتر ہو گئی تھی۔

اسی طرح میر علی میں بھی کشیدگی پائی جاتی ہے جہاں دو ہفتے پہلے مقامی لوگوں نے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے خلاف دھرنے دیے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *