پاکستان کی قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کا دائرۂ اختیار فاٹا تک بڑھانے کا بل منظور کر لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی قومی اسمبلی نے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھانے سے متعلق بل کثرت رائے سے منطور کر لیا ہے۔

حکمراں اتحاد میں شامل جماعت جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا تو پھر اسے کیوں ایوان میں پیش کیا گیا؟

سپیکر سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ یہ بل ارکان کی اکثریت کے مطالبے پر پیش کیا گیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وفاقی وزیر قانون و انصاف محمود بشیر ورک نے اعلیٰ عدلیہ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھانے کا بل جمعے کو قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ اُنھوں نے اس سے پہلے قانون و انصاف کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی تھی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کا دائرۂ اختیار فاٹا تک بڑھانے کا بل قومی اسمبلی میں پیش

‘فاٹا اصلاحاتی مسودے میں انضمام کا لفظ نہیں’

فاٹا اصلاحات: ‘استعماری قوتوں کی سازش یا آزادی کا راستہ’

فاٹا اصلاحات کی کہانی: قبائلی کتنے آگاہ ہیں؟

اس رپورٹ میں قائمہ کمیٹی کے ارکان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے بجائے پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔

جب یہ بل ایوان میں پیش کیا جا رہا تھا تو جے یو آئی کی رکن اسمبلی نعیمہ کشور نے کورم کی نشاندہی کردی لیکن جب گنتی کی گئی تو کورم پورا نکلا۔ اس کے بعد مذکورہ رکن اسمبلی کے پشاور ہائی کورٹ کی بجائے اسلام آباد ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کی ترمیم پیش کی جو کثرت رائے سے مسترد کر دی گئی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پارلیمان نے اس سے پہلے انتخابی اصلاحات کیں، ایف سی آر کا خاتمہ کیا۔ اب سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار بھی فاٹا تک بڑھا دیا ہے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمان فاٹا کے انضمام کا تاریخی کام سر انجام دے اور حکومت فاٹا کے عوام کے ساتھ کیا جانے والے وعدہ پورا کرے جو فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنے سے متعلق ہے۔

حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی مخالفت کر رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں کوئی بھی قانون سازی کرنے سے پہلے قبائلی علاقوں میں ریفرینڈم کروایا جائے تاکہ لوگوں کی رائے معلوم کی جا سکے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اس ضمن میں وزیر اعظم اور آرمی چیف سے بھی ملاقاتیں کر چکے ہیں تاہم مبصرین کے بقول بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ریفرینڈم کے بارے میں مولانا فضل الرحمن کی تجویز کو ماننے کو تیار نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *