پاکستان میں یکطرفہ کارروائی کا ارادہ نہیں: جنرل جوزف کا جنرل قمر کو فون

باجوہ اور ووٹلتصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل جوزف ایل ووٹل نے پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل جنرل قمر جاوید باجوہ کو بتایا ہے کہ امریکہ پاکستان میں کسی قسم کا یکطرفہ کارروائی کے بارے میں نہیں سوچ رہا۔

یہ بات پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس ریلیز میں کہی ہے۔

مزید پڑھیے

’امریکہ سے خفیہ معلومات کا تبادلہ اہم لیکن معطل‘

امریکہ کو کتنی مشکل کا سامنا ہو سکتا ہے؟

امداد کی معطلی: ’دہشت گردی کے خلاف عزم غیرمتزلزل‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹ کے بعد سے دونوں ممالک کے حالات کشیدہ ہونے کے بعد گذشتہ ایک ہفتے کے دوران بّری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو کمانڈر امریکی سینٹرل کمانڈ جنرل جوزف ایل ووٹل اور ایک امریکی سینیٹر نے فون پر بات کی ہے۔ تاہم بیان میں امریکہ سینیٹر کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل جوزف نے جنرل باجوہ کو کوالیشن سپورٹ فنڈ کے حوالے سے کیے گئے فیصلے کے بارے میں آگاہ کیا۔

انھوں نے جنرل باجوہ کو بتایا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ دونوں ممالک میں کشیدگی عارضی ہے۔

کمانڈر امریکی سینٹرل کمانڈ جنرل جوزف ایل ووٹل نے پاکستان کو بتایا کہ امریکہ پاکستان میں کسی قسم کا یکطرفہ کارروائی کے بارے میں نہیں سوچ رہا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ پاکستان کو ان افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کرنی ہو گی جو امریکہ کے خیال میں افغانستان میں حملے کے لیے پاکستانی زمین استعمال کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی جنرل نے مزید کہا کہ امریکہ میں اس سوچ کے باعث دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی خدمات پس منظر میں چلی گئی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی جنرل کو کو بتایا کہ امریکی مالی امداد کے بغیر بھی پاکستان اپنے قوم مفاد میں دہشت گردی کے خلاف کوششیں جاری رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیے

جمہوری اور فوجی ادوار اور امریکی امداد

امریکہ نے پاکستان کو کتنی امداد دی؟

کن ممالک پر امریکی دھمکی کا اثر نہیں ہوا؟

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان کو افغان شہریوں کی کارروائیوں پر امریکی تحفظات کا علم ہے اور اسی لیے وہ ردالفساد کے تحت کارروائیاں کر رہے ہیں اور اس کے لیے افغان مہاجرین کا اپنے ملک لوٹنا بہت اہم ہے۔

بیان کے مطابق جنرل قمر نے کہا کہ پاکستان مالی امداد کی بحالی کے لیے امریکہ سے درخواست نہیں کرے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی جنرل نے پاکستان کی جانب سے حالیہ کارروائیوں کی افادیت کا اعتراف کیا تاکہ افغان مہاجرین پاکستان کی مہمان نوازی کو غلط طریقے سے استعمال نہ کر سکیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سال کے آغاز پر ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی میں اربوں ڈالر کی امداد لینے کے باوجود پاکستان نے امریکہ کو سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ‘امریکہ نے 15 سالوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر بطور امداد دے کر کبے بے وقوفی کی۔ انھوں نے ہمیں سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ۔’

صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘وہ ہمارے رہنماؤں کو بےوقوف سمجھتے رہے ہیں۔ وہ ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں جن کا ہم افغانستان میں ان کی نہ ہونے کے برابر مدد سے تعاقب کر رہے ہیں۔اب ایسا نہیں چلے گا۔’

اس کے جواب میں پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ پاکستان بہت جلد اس پر رد عمل جاری کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ‘ہم دنیا کو حقیقت بتائیں گے، حقائق اور مفروضے میں فرق بتائیں گے۔’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *