خواجہ سراؤں کو دیا جانے والا این سی اے کا جوبن کیفے بند کیوں ہوا؟

جوبن کیفے تصویر کے کاپی رائٹ Babli Malik
Image caption پاکستان جہاں خواجہ سراؤں کو ’تیسری جنس‘ کہا جاتا ہے میں اس کمیونٹی کو عام کاروبار زندگی میں شمولیت کی اجازت ملنا ایک بڑی پیش رفت قرار دی گئی تھی

این سی اے راولپنڈی میں داخلہ لینے والے طلبا و طالبات کے لیے ضابطہ اخلاق میں ایک نکتہ کیفے ٹیریا میں کام کرنے والے عملے کے احترام سے متعلق بھی ہے جس کی خلاف ورزی کرنے کی سخت سزا بھی ہو سکتی ہے۔

لیکن اب شاید نئے طالبعلموں کو ایسا کچھ نہیں کہا جائے گا کیونکہ کیفے چلانے والے خواجہ سراؤں کے لیے اب یہ ممنوعہ علاقہ بن چکا ہے۔

آٹھ ستمبر 2015 وہ دن تھا جب این سی اے میں خواجہ سرا کمیونٹی کے افراد نے ‘جوبن فوڈ کورٹ’ کے نام سے کیفے کھولا۔ اپنے خاندان اور معاشرے کی جانب سے نظر انداز ہونے والی اس کمیونٹی کو عام انسان کی طرح روزگار کا موقع ایک بہت بڑی پیش رفت قرار دیا گیا لیکن دو برس بعد 23 اکتوبر 2017 میں اس کیفے کو بند کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

’مکّے مدینے جانا تو ہمارا خواب ہوتا ہے‘

خیبر پختونخوا میں ایک اور خواجہ سرا قتل

بونیر میں خواجہ سراؤں کے مجروں پر پابندی

کیفے کی منتظم ببلی ملک کہتی ہیں کہ انتظامیہ کا رویہ سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ اکتوبر میں میرے ایک بیرونی دورے کے دوران کیفے کو یہ کہہ کر بند کیا گیا کہ ‘حلیم میں روئی نکلی ہے۔ واپسی پر جب میں نے حلیم میں روئی کی موجودگی کا ثبوت مانگا تو انتظامیہ نے وہ دینے کے بجائے یہ ٹینڈر کی بات کر دی جو کہ میں بھر ہی نہیں سکتی کیونکہ میں نہ تو کسی کمپنی سے تعلق رکھتی ہوں اور نہ ہی فرم سے۔ یہ بھی الزام لگا کہ کسی تیسرے فریق کو کام کی اجازت دی جو کہ غلط ہے۔ میں ایک این جی او چلاتی ہوں جو خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے ہی کام کرتی ہے میں ہر وقت یہاں موجود نہیں ہوتی سٹاف موجود ہوتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ابتدا میں ہر چند ہفتوں بعد کہا جاتا رہا کہ کیفے دوبارہ کھولنے کی جلد اجازت ملے گی لیکن اب یونیورسٹی انتظامیہ نے ای میل کے ذریعے کہا ہے کہ کیفے بند کرنے کی ڈیڈ لائن دو فروری کو ختم ہو چکی ہے۔ اب اسے فوری طور پر خالی کیا جائے ورنہ اسے کھول کر سامان کیفے کی کینٹین میں رکھوا دیا جائے گا۔ ‘

ببلی ملک کا یہ بھی گلہ ہے کہ سٹوڈنٹس کی جانب سے کیفے سے لیے جانے والے ادھار کی مد میں تقریباً دو لاکھ روپے بھی وصول کرنے کے لیے انتظامیہ نے کوئی مدد نہیں کی۔

بی بی سی کو موصول ہونے والی اس ای میل کی کاپی میں کالج کے منتظم اعظم جمال نے لکھا ہے کہ ‘ این سی اے نے ’نہ نفع نہ نقصان‘ کے اصول کے تحت خواجہ سرا کمیونٹی کو یہ کیفے دیا تھا۔ لیکن پھر یہ کیفے کسی تیسرے فریق کو دے دیا گیا۔’

’ٹینڈر کی بات کبھی نہیں ہوئی‘

رابطہ کرنے پر کالج کے پرنسپل مرتضیٰ جعفری نے بتایا کہ ببلی کو کیفے کا انتظام دیتے وقت یہ کہا گیا تھا کہ سال بعد وہ ٹینڈر بھریں گی لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

‘ہمیں ہر سال آڈٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ضابطے کے تحت ٹینڈر کے بغیر کسی کو کیفے چلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بہت سختی ہے۔ میں نے کیفے کی منتظم کو کہا اس بار ٹینڈر بھریں لیکن اب تاریخ گزر چکی ہے۔ خواجہ سرا اب میڈیا کے ذریعے ہم پر دباؤ ڈال رہے ہیں مگر اس میں ہماری کوئی غلطی نہیں۔ انھیں بھی سمجھنا چاہیے کہ ہم نے ہی انھیں جگہ دی تھی اور میڈیا انھیں ہماری وجہ سے ہی جاننے لگا تھا۔‘

لیکن اسی کالج میں سنہ 2015 میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دینے والے ڈاکٹر ندیم عمر تارڑ جن کی کاوشوں سے اس کیفے کو خواجہ سراؤں کے حوالے کیا گیا تھا کا کہنا ہے کہ ‘اُس وقت سال بعد ٹینڈر بھرنے کی کوئی بات نہ زبانی ہوئی تھی اور نہ ہی تحریری۔ کالج میں ٹینڈر کے تحت ایک کیفے پہلے سے موجود تھا لیکن جوبن فوڈ کورٹ کا مقصد فقط خواجہ سراؤں کو ایک باعزت کام کرنے کا موقع دینا تھا۔’

اس کیفے میں ببلی کے ہمراہ کل پانچ خواجہ سرا اور تین لڑکے کام کرتے تھے۔

نوکری نہ ملنے پر پریشان ایم بی اے فنانس کرنے والی عیشا نے کیفے میں کام شروع کیا اسی طرح شرمیلی اور دیا نے بھیک مانگنے کے بجائے ببلی کے ساتھ کیفے سنھبال کیا جبکہ شادو یہاں پراٹھے بنا کر محنت مزدوری کرنے لگیں۔

ندیم عمر تارڑ نے کہا کہ کالج کے دروازے خواجہ سراؤں کے لیے کھولنا اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ ہمارے معاشرے میں اس کمیونٹی کے ساتھ اچھا رویہ نہیں برتا جاتا اور اس کے لیے طلبا و طالبات کو خاص طور پر گائیڈ کیا گیا۔

‘ آنے والے عرصے میں ہم نے نہ صرف کالج کے سٹوڈنٹس بلکہ والدین کی جانب سے بھی مثبت ردعمل کا اظہار دیکھا۔’

جوبن کیفے ویران ہو گیا

این سی اے کا جوبن کیفے اب ویران ہے۔ طلبا و طالبات کیفے کی بندش سے لاعلم اور انتظامیہ کی تبدیلی کے بعد سے کالج کے ماحول میں در آنے والی غیر معمولی انتظامی سختی کی وجہ سے بات کرنے سے کتراتے دکھائی دیے۔

چند سٹوڈنٹس سے جوبن اور اس کے سٹاف کے بارے میں بات ہوئی تو ان میں سے ایک نے کہا ‘کہ ببلی آنٹی اور ان کا سٹاف بہت اچھے طریقے سے پیش آتا تھا ہماری ان سے بہت اچھی دوستی تھی۔’

ایک طالبہ نے بتایا کہ ’کالج میں داخلے کے وقت جب دو برس پہلے تعارفی سیشن ہوا تو ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ یہاں موجود خواجہ سراؤں سے اچھے انداز میں بات کرنی ہے ان کی تضحیک نہیں کرنی ورنہ کالج سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ ‘

کسی نے کہا کہ ‘اس کیفے میں ہمیں کھانے کے لیے حلیم، پراٹھا بہت کچھ ملتا تھا جسے اب ہم مِس کرتے ہیں۔ ہمیں کبھی کیفے انتظامیہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ لیکن نجانے کیوں کیفے کو اچانک بند کر دیا گیا۔’

ایک طالبہ نے حلیم میں روئی کے الزام پر حیرت کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ ’ہم بچے تو نہیں، سارا کالج کیفے سے کھانا کھاتا تھا کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا ہوتا تو ہم خود شکایت کرتے۔

کچھ طلبا نے اس وقت یونیورسٹی انتظامیہ سے یہ کیفے دوبارہ کھولنے کا مطالبہ بھی کیا تھا تاہم انھیں یہ تسلی دے کر خاموش کروا دیا گیا کہ جلد اس سلسلے میں کچھ کیا جائے گا۔

دوسری جانب جوبن کا سٹاف اب طویل انتظار کے بعد مایوسی کا شکار نظر آتا ہے۔ خواجہ سرا اب ایک بار پھر یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ اب کس طرف جائیں۔ کیا وہ پھر سے بھیک مانگنے لگیں یا پھر فنکشن میں لوگوں کے برے برتاؤ کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *