اقوام متحدہ کے تحت دہشت گرد قرار دی گئی تنظیمیں پاکستان میں بھی کالعدم قرار

فلاح انسانیت فاؤنڈیشن تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غیر قانونی طریقے سے چندہ جمع کرنے والی تنظیموں سے متعلق معلومات انٹیلیجنس نیٹ ورک کے ذریعے حاصل کی جائیں گی

حکومتِ پاکستان نے ایک صدارتی آرڈیننس جاری کیا ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیموں کو پاکستان میں بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔

یہ صدارتی آرڈیننس اتوار کو جاری کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

’جماعت الدعوۃ کے خلاف کریک ڈاؤن کے پیچھے امریکہ ہے‘

جماعت الدعوۃ کے لیے عطیات اور چندہ جمع کرنے پر پابندی

حافظ سعید کا بوجھ

صدر مملکت کی طرف سے جاری ہونے والے اس آرڈیننس کے تحت انسداد دہشت گردی ایکٹ سنہ 1997 کی گیارہ بی میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت ایسی تنظیمیں جنھیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت کالعدم قرار دیا گیا ہے وہ پاکستان میں بھی کالعدم قرار دی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت جن تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے ان میں طالبان کے علاوہ حقانی نیٹ ورک، فلاح انسانیت، الرشید ٹرسٹ، اختر ٹرسٹ، جماعت الدعوۃ، روشن منی ایکسچینج، حاجی خیر اللہ حاجی ستار منی ایکسچینج، حرکت جہاد الاسلامی، اُمہ تعمیرِ نو اور راحت لمیٹڈ شامل ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اُن میں کچھ کے نیٹ ورک پاکستان میں موجود ہیں۔

پاکستان میں حکومت کی جانب سے پہلے ہی حقانی نیٹ ورک اور تحریک طالبان پاکستان کے مختلف گروپس کو کالعدم قرار دیا گیا ہے تاہم جماعت الدعوۃ، فلاح انسانیت فاونڈیشن اور معمار ٹرسٹ ابھی زیرِ نگرانی تنظیموں میں شامل تھیں۔

جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت کے بارے میں وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ان دونوں تنظیموں کا تعلق لشکرِ طیبہ سے ہے۔ جسے سنہ 2002 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ کے بارے میں وزارت داخلہ کے اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ نتظیمیں صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقوں میں کام کرتی تھیں۔

فلاح انسانیت فاونڈیشن سنہ2012 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت کالعدم قراردی گئی ہے لیکن پاکستان میں اس تنظیم کے تحت سینکٹروں ایمبولینس ملک کی مختلف علاقوں میں چل رہی ہیں اور ابھی تک اس تنظیم سے وابستہ ہزاروں افراد فلاحی کاموں میں متحرک ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ صدر کی طرف سے ان تنظیموں کے بارے میں آرڈیننس جاری کردیا گیا ہے لیکن اعلی حکام کی طرف سے ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کے تحریری احکامات نہیں ملے۔

’کونسی طاقتیں ان تنظیموں کو سیاست میں لانا چاہتی ہیں؟‘

لشکر طیبہ کی طلبہ تنظیم، دو رہنما دہشت گردوں کی فہرست میں

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ملی مسلم لیگ کا جس نے حال ہی میں ہونے والے تین ضمنی انتخابات میں حصہ لیا ہے، تعلق بھی لشکر طیبہ اور اس کی ذیلی تنظیموں سے ہے۔

اہلکار کے مطابق امریکہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے ان کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالا جارہا تھا۔

اہلکار کے مطابق اس آرڈیننس کے بعد الیکشن کمیشن کے لیے ملی مسلم لیگ کو بطور سیاسی جماعت رجسٹر کرنے کا عمل مشکل ہو جائے گا۔

اس جماعت اور ان کالعدم تنظیموں سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے افراد نے ضمنی انتخابات میں حکمراں جماعت کے امیدواروں کے خلاف انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار نے قومی سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے حمایت یافتہ امیداروں سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔ حمایت یافتہ امیدواروں نے اپنے پوسٹرز پر حافظ سعید کی تصاویر بھی چھپوائیں تھیں۔

اقوام متحدہ نے حافظ سعید کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا ہوا ہے جس کے خلاف اُنھوں نے گذشتہ برس نومبر کو ایک درخواست دائر کی تھی۔ میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق حافظ سعید کا نام کالعدم قرار دی جانے والی لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

حافظ سعید کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اُن کا نام دہشت گردوں کی فہرست سے نکال دیا جائے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدارتی ارڈیننس قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس شروع ہونے سے ایک روز قبل جاری کیا گیا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس آرڈیننس کے جاری کرنے کا مقصد جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ کے سیاسی ونگ ملی مسلم لیگ کو اس سال ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے سے روکنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *